جموں29جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر یونٹ کے ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ سنیل سیٹھی نے کہا کہ مستقبل میں اگر کبھی پاکستان سے بات چیت ہوگی تو وہ اس کے قبضے والے کشمیر پر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر جو کہ بھارت کی ایک ریاست ہے، پر پاکستان کے ساتھ کبھی کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ سنیل سیٹھی اتوار کے روز یہاں ترکوٹہ نگر میں واقع پارٹی دفتر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے کہا ’ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے سربراہان (ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی) اور حریت کانفرنس کی طرف سے بیانات آئے ہیں کہ ہندوستان کو پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہیے۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو کشمیر پر بات کرنی چاہیے۔ ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کس کشمیر پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں قرارداد منظور ہوچکی ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ بات چیت ہوگی تو اس کے قبضے والے کشمیر پر ہوگی۔ اگر عمران خان بھارت کی ریاست جموں وکشمیر پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس پر کوئی بات چیت نہیں کرنی ہے۔ پارلیمانی قرارداد کے مطابق بات چیت پاکستان کے قبضے والے کشمیر پر ہونی ہے‘۔
انہوں نے کہا ’ہندوستان کو کس سے بات چیت کرنی چاہیے یا کس سے نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فیصلہ سیاسی جماعتیں نہیں لی سکتیں۔ عمران خان کا اپنے پہلے ہی بیان میں کشمیر پر بات کرنا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے مکمل کنٹرول میں ہیں‘۔ واضح رہے کہ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہمفتی نے ہفتہ کے روز سری نگر میں پارٹی کے ایک جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کے بھارت پاکستان تعلقات سے متعلق بیان کا مثبت جواب دیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دوستی اور مذاکرات کی بات کی ہے اور مسٹر مودی کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی ایک ایسے ہی بیان میں کہا ہے کہ حکومت ہند کو عمران خان کے بیان کا مثبت جواب دینا چاہئے اور ساتھ ہی مستقبل کے لئے امن نئی راہیں تلاش کرنی چاہیں کیونکہ امن و امان میں ہی دونوں ممالک کی آزادی ،سالمیت، ترقی اورخوشحالی ممکن ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جس طرح سے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ہی عمران خان نے ہندوستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے ایک ساتھ آگے بڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا وہ قابل ستائش ہے۔
حکومت ہند کو بھی وسعت قلبی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لچکدار رویہ اپنا کر پاکستان کے نئے بننے والے وزیر اعظم کی پیشکش کا مثبت اور بروقت ردعمل دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت کو واحد راستہ قرار دیا ہم اُس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
مسئلہ کشمیر کے لٹکے رہنے سے کشمیر کے لوگ کئی دہائیوں سے پریشان ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی دشمنی اور چپقلش کی وجہ سے آر پار کشمیری عتاب میں ہیں۔